PRESS RELEASE – January 22, 2014

Standard

 

Another blast on a bus carrying #Shia #Hazara community members and 30+ are dead with another 30 injured. As can be seen on the front pages of not only local papers but national papers, Lashkar-e-Jhangvi (led by Maulana Ramzan Mengal under the title of Ahl-e-Sunnat wal Jamaat in Balochistan) has audaciously proclaimed the havoc and has warned for more. What’s that Lashkar-e-Jhangvi wants Hazara community to do? It’s simple, (thanks to LeJ for clarity) that Hazaras should not be Hazaras, Shias should not be Shias; they should not exist.

As United Nations “1948 Convention on Prevention and Punishment of the Crime of Genocide” defines,

The convention defines genocide as any act committed with the idea of destroying in whole or in part a national, ethnic, racial or religious group. This includes such acts as:

  • Killing members of the group
  • Causing serious bodily or mental harm to members of the group
  • Deliberately inflicting conditions calculated to physically destroy the group (the whole group or even part of the group)
  • Forcefully transferring children of the group to another group

Hazara community which makes 0.25% of Pakistan’s total 200 million estimated populations has witnessed 1400+ killings of its community members at the hands of banned militant extremist outfits, categorically Lashkar-e-Jhangvi (also known as Sipah-e-Sahaba, and currently as Ahl-e-Sunnat-wal-Jamaat). Another 1400+ community members have died in the desperate attempts to flee the systematic genocide at home, in Quetta, Balochistan, Pakistan. Singling out passengers from buses, identifying them on the basis of their sects and ethnicity carry clear hallmarks of genocide and it’s time for international community and United Nations to acknowledge it so.

It’s not about Hazaras only. Shias all across Pakistan have been targets of Lashkar-e-Jhangvi, Tahreek-e-Taliban and Jaish-ul-Islam. #ShiaGenocide is a reality in the forms of target killing of Shia individuals, bomb blast on Shia processions and Imambargahs. International community should not wait for ‘6 million deaths’ to diagnose these crimes as ‘genocide’.

We request you to highlight a single demand “Action against Lashkar-e-Jhangvi and all its off-shoots”.

We do not demand compensations, we do not want impotent condemnations of acts, we want action against those who proudly claim the responsibility and reiterate their commitment to go for more. Despite all these deaths of thousands of men, not a single member of Lashkar-e-Jhangvi has received justice. Recent stay-order for hanging of three such murderers is clear proof.

Holding Pakistani military responsible for treating these militant outfits as ‘strategic alliances and assets’ we demand Pakistan military to launch clear and transparent operation against Lashkar-e-Jhangvi and Tahreek-e-Taliban. We demand Pakistan judiciary to deliver justice.

By Awami Workers Party (AWP), Hazara for Humanity (H4H), Islamabad Civil Society

Advertisements

Press Release (Urdu, Feb. 21, 2013) by IHI, H4H, WAF

Standard

لشکر  بنانےکی پالیسی ترک کرو

شیعہ / ھزارہ کمیونٹی کوخصوصی تحفظ فراھم کیا جائے

کالعدم تنظیموں پر پابندی کو موثر بنایا جائے اور ان کے خلاف فوری کاروائی کی جائے

 

،محترم صحافی خواتین و حضرات،

آج کی یہ پریس کانفرنس انسانی حقوق اتّحاد، ایواجی ، ویف اور ھزارہ فارھیومینٹی  کی جانب سے کوئٹہ میں ھونیوالے انسانیت سوز واقعات کے حوالے سے بلائی گئی ھے

 جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گذشتہ ایک دھائی سے اھل ِ تشیع کو بالعموم اور بلوچستان میں آباد ھزارہ کمیونٹی کو بالخصوص دھشتگردی کا نشانہ بنایا جا رھا ھے اور صرف 2013 ھی میں 200 سے زائد بے گناہ شہریوں کا قتل ِعام کیا گیا ھے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہیں ۔ صرف ایک خاص فرقے ، مذہب اور نسل سے تعلق کی بنیاد پر معصوم اور نہتّے عوام کے اس قتل ِ عام کو دنیا بھر اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی رُو سے نسل کُشی قرار دیا گیا ھے جو کسی بھی انسانی معاشرے کے لئےایک المیہ اور لمحہ ءِ فکریہ ھے

اس طرح کا قتلِ عام نہ صرف حکومت ، عدلیہ بلکہ انٹیلیجنس اداروں سمیت ریاست کے تمام ستونوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ھے- سول سو سائٹی یہ محسوس کرتی ھے کہ حکومتی اداروں کی خاموشی یا اس صورتحال میں موثر کردارادا نہ کرنا ان کی مجرمانہ غفلت ھے- اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، اپوزیشن اور میڈیاء کا کردار بھی قابل ِ تعریف نہیں رھا ھے

گذشتہ دھائیوں سے ھماری سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نام نہاد ملکی مفادات کی جنگ فرقہ ورانہ جہادی اور غیر ریاستی عناصر کے بل بوتے پر لڑ رہی ھے جس کی وجہ سے ھمارا ریاستی نظام اور معاشرہ نہ صرف معاشی ، سیاسی بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی تباہ و برباد ہو چکا ھے- ھم حکمران طبقوں اور پالیسی سازی پر قابض اداروں کو اس انحطاط کا ذمہ دار سمجھتے ہیں

موجودہ حکومت کی بے حِسی، ناکامی اور سیکورٹی اداروں کیجانب سےجہادی عناصر کی پشت پناھی کی وجہ سے بےگناہ ھزارہ کمیونٹی کا سسٹمیٹک جینوسائڈ ھو رھا ھے ۔

کسی بھی ریاست کی اوّلین ذمہ داری اس کے شہریوں کے جان و مال کا تحفُظ ھے لہذا ھم ریاست کے تمام اداروں اور خصوصا” پالیسی ساز اداروں سے ‘عوام کو تقسیم کرنے اور مسلّح کرکے لشکر بنانے کی پالیسی’ کو ترک کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انھی پالیسیوں کی وجہ سے یہ ملک اور بالخصوص بلوچستان عدم برداشت، مذھبی منافرت اور خانہ جنگی کی طرف بڑھ رھا ھے۔

آخر میں ھم ملک بھر اور خصوصی طور پر صوبہ بلوچستان میں سیاسی اور  حقیقی جمہوری  نظام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے،  طالبان اور لشکر جھنگوی سمیت تمام انتہا پسند اور دھشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح کاروائی کرکے ھزارہ کمیونٹی کو تحفظ فراھم کرنے، کوئٹہ دھماکے میں جاں بحق ھو نی والوں کے ورثاء کو فوری طور پر مناسب معاوضے کی ادائیگی ، زخمیوں کے بہترین علاج کا انتظام اور تمام کالعدم انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح اور موثر کاروائی کرکے ریاست کے تمام شہریوں کا بالعموم اور ھزارہ عوام کا بالخصوص قتل عام بند کرکے تحفظ فراھم کرنے کا پُر زور مطالبہ کرتے ہیں

شکریہ

انسانی حقوق اتحاد

ھزارہ فار ھیومینٹی
ویف

ایواجی

Aap aik Darzi hain ..

Standard

آپ ایک درزی ہیں ۔۔ 

quote-a-belligerent-state-permits-itself-every-such-misdeed-every-such-act-of-violence-as-would-sigmund-freud-65968

علی عباس جلالپوری کی کتاب میں ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ کا ایک لطیفہ منقول ہے ۔ ارے صاحب، یہودی فرائیڈ با لکل کافر ہے اور جنت میں بھی نہیں جائے گا (یہ الگ بات کہ جنت جانے کا اُس کافر کو چنداں شوق بھی نہیں)۔ جلالپوری صاحب سے بھی آپ کو پرخاش سہی لیکن لطیفہ سننے میں کیا حرج ہے؟

کہتے ہیں کسی زمانے میں، کسی علاقے میں کوئی قبیلہ آباد تھا جن کی وجہ شہرت اُ ن کی عدالت پسندی ، قانون پرستی اور قانون کا بے لچک نفاذ تھا۔ قانون پر عمل درآمد اُن میں اس قدر سختی سے رائج تھا کہ قبیلے کے سردار کی ذات بھی اٰس بےلچک اور بلا مصلحت نفاذ سے مبرا نہیں تھی۔ اب ہوا یہ کہ ایک دن میاں لوہار نے ایک بندہ ءِخدا کا خون کر دیا۔ سو اجلاس ہوا، کمیٹی بیٹھی، اور جیسا کہ متوقع تھا، اتفاق ِ رائے سے لوہار کو سزائے موت سنا دی گئی اور لوہار کو پھانسی دینے کے لیے ایک مخصوص دن کا انتخاب کیا گیا۔

اتفا ق دیکھئے کے جن دنوں میاں لوہار جیل کی کو ٹھڑی میں اپنی پھانسی کا انتظار کر رہے تھے، اطلاع موصول ہوئی کہ ایک اور قبیلہ حملے کی تیاری میں مصروف ہے اور عنقریب اِس قبیلے پر دھاوا بول دے گا۔

مزید پتہ چلا کی میاں لوہا ر قبیلے کے واحد لوہار رہ گئے تھے ۔ قبیلے کے سب بڑے بوڑھے ، مُلّا ، قاضی، فوجی سب ہی بڑے پریشان ہوئے ۔ ایک طرف عزّت و عصمت، قانون کی پاسداری کا سوال جو قبیلے کی امتیازی صفت اور وجہءِ نیک نامی تھی اور دوسری طرف جنگ کے خطرے کے پیش ِ نظر واحد لوہار کی ضرورت، جس نے تلوار ، نیزے ، بھالے اور خنجر ڈھالنے تھے۔ سب شش و پنج میں تھے کہ کیا کیا جائے؟  “نظریۂ ضرورت” کا سب کو شدّت سے احساس ہوا۔  معامل مشکل تو ضرور تھا لیکن قبیلے میں عقلمند لوگوں کی کمی نہ تھی سو دوبارہ مُلّا ، قاضی ، فوجی اور سردار سر جوڑ کر بیٹھے، طویل گفت و شنید ہوئی اور گھنٹوں کے سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ قبیلے میں صرف ایک لوہار ہے جبکہ درزی چار ہیں اور پھانسی اور قانون پر عمل در آمد بھی ضروری ہے۔ لہٰذا ہوا یوں کہ میاں لوہار کو چھوڑ کر ایک درزی کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

جب جب نظریۂ ضرورت کی بات چلتی ہے، جب قانون پرستی، آزاد عدلیہ اور بے لچک انصاف کا چرچا ہونے لگتا ہے، تب تب مجھے یہ لطیفہ یاد آتا ہے۔

جب جب جیلوں سے ’لوہاروں‘ کو کبھی پارلیمنٹ، کبھی کسی ضروری جگہ مذاکرات اور اہم گفت و شنید کے لیے ہیلی کاپٹر میں لے جایا جاتا ہے، جب جب قبیلے کے دفاع کے نام پر لوہاروں کی فوج کی ٹھن ٹھن کانوں میں گُونجتی ہے نہ جانے کیوں میں الماری کے اندر سے مٹّی تلے دبے جلالپوری صاحب کی اِس کتاب کو جھاڑ پُونچھ کر نکالتا ہوں۔ شاید اس لیے نہیں کہ کافر اور یہودی فرائیڈ کے اس لطیفہ سے کسی ’مومن مسلمان‘ کو کوئی نتیجہ مل سکتا ہے بلکہ ہزارہ شیعہ دوستوں سے میری بات چیت ہوتی رہتی ہے جو آج کل حیرت، وحشت اور مایوسی کے مِلے جُلے احساسات کے ساتھ بار بار پوچھتے ہیں ’آخر ہمارا قصور کیا ہے؟‘

 !میں صرف انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ میاں لوہار نہیں، آپ ایک ’درزی‘ ہیں

:نوٹ

یہ مضمون  9 جولائی 2012 کو بی بی سی  اردو میں چھپا تھا ، یہاں  معمولی  ردّ و بدل کے ساتھ پیش کیا جا رھا ھے

:بی بی سی اردو پر چھپے مضمون کا لنک یہ ھے

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120709_hazara_shia_comment_as.shtml

Meray dard ko jo zuban miley …

Standard

“Almost always, the creative dedicated minority has made the world the better.”

                                                    (Dr. Martin Luther King Jr.)

I remember my school days. The dose of patriotism was inseparable from those of religion and so the green color of the flag was my favorite color, the emotional ideological slogans were my favorite phrases in literature, Iqbal’s community poems were my favorite poems by far, military was my favorite profession and emotional anthems were my favorites in music. But even in those days I remember whenever I listened to “Sindhi hum, Balochi hum, Punjabi hum, Pathan hum . . .” I was innocently irritated over the absence of any mention of my Hazara ethnicity. Years later I realized there were far more deserving communities whose names were missing in those verses and also some whose only names were there.

So how exactly it feels to be a Hazara when you have to explain to every person you meet that you were not a Pathan, an Irani or a Chinese? It really tests your nerves when you are protesting against the brutal mass killing of your fellow community members in Balochistan and the ‘khabarnaak’ journalists in Islamabad question if you really believe you can get a whole new province out of Khyber Pakhtunkhwa. I cannot describe how weird it feels that the moment you tell people you are a shia, you are re-adjusted.

Later on I realized it was not all about a Hazara or a shia for that matter; how would a Baloch feel when even the sympathetic figures in mainstream politics and media insistently keep calling the Balochs ‘the Baluchis’? Calling someone a proper name is the first in ethics of dialogue whereas here in 65 years nobody noticed that Balochs may mind if called as Baluchis.

What I further observed was that unquestioned perceptions were not exclusively for alien ethnic minorities but also the religious minorities within the mainstream. In my Quetta years, I knew nothing against or about the Ahmedi community. Now a matter of shame for me, I witnessed for consecutive four years in UET Lahore that Ahmedi students were not allowed to dine in the common mess halls. This tradition continues unquestioned and unchallenged to date despite the fact that no politico-religious student wing is officially active in the university now for more than a decade.

Sometimes I try to imagine how an Ahmedi would feel when after the heinous murder of 80 Ahmedis, nobody is even allowed to sympathize and the top leader of the province has to clarify his utterance of the symbolic term ‘brother’ for the grieved community. (June 2010)

Ahmedis, Balochs, Hazaras, Shias are some of the marginalized groups; the actual list is too long to be covered in this piece. But after all such sensitive psychological details of ‘how it feels to be marginalized’, I now argue from a moral perspective Read the rest of this entry

Hello world!

Standard

Welcome to WordPress.com. After you read this, you should delete and write your own post, with a new title above. Or hit Add New on the left (of the admin dashboard) to start a fresh post.

Here are some suggestions for your first post.

  1. You can find new ideas for what to blog about by reading the Daily Post.
  2. Add PressThis to your browser. It creates a new blog post for you about any interesting  page you read on the web.
  3. Make some changes to this page, and then hit preview on the right. You can always preview any post or edit it before you share it to the world.